ROSHAN STARS

ROSHAN STARS

knowledge islamic quotes articles poims islamic education tips and tricks apps and games for pc android apps latest news for information technology

google Search

Friday, July 8, 2022

masail-e-qurbani

July 08, 2022 0
masail-e-qurbani

 

مسائل قربانی

قربانی ایک اہم عبادت ہے جس کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی لگایاجاسکتاہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود ایک صداونٹوں کی قربانی کی، جن میں سے ساٹھ تک بذات خود ذبح کیے اوربقیہ  حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ذبح کیے۔

اسی طرح نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کاارشادگرامی ہے کہ:اپنی قربانی کے جانوروں کوکھلاپلاکرخوب موٹاتازہ کرو یہ تمہاری سواری بنیں گے پل صراط پر۔نیزیہ کہ قربانی کے جانورکاخون زمین پرگرنے سے پہلے قربانی کرنے والے کے گناہوں کوبخش دیاجاتاہے۔ذیل میں مسائل قربانی افادہ عامہ کے لیے پیش کیے جارہے ہیں۔ 





 

وہ جانور جن کی قربانی جائز ہے

 

مسئلہ: جس جانور کے پیدائشی سینگ نہ ہوں یا بعد میں ٹوٹ گئے ہوں ، بشرطیکہ سینگ جڑ سے نہ ٹوٹا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔

 

مسئلہ: جس بھیڑ یا بکری کی دم پیدائشی طور پر چھوٹی ہو تواس کی قربانی درست ہے ۔

 

مسئلہ:

جو جانور  کانا ہو لیکن اس کا کانا پن ظاہر نہ ہو تو اس کی قربانی جائز ہے ۔

 


مسئلہ:

 لنگڑا جانور جو چلنے پر قادر ہو اور چوتھا پاؤں زمین پر رکھ کر اوراس کا سہارا لے کر چلتا ہو ، تو اس کی قربانی جائز ہے۔

 

 مسئلہ:

جو جانور بیمار ہو ، لیکن اس کی بیماری ظاہر نہ ہو تو اس کی قربانی درست ہے ۔

 

مسئلہ:

جس جانور کو کھانسی یا خارش کی بیماری لاحق ہو اس کی قربانی درست ہے ۔

 

مسئلہ:

جس جانور کا کان چیر دیا گیا ہو ،یا ایک تہائی سے کم کاٹ دیا گیا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔

 


 مسئلہ:

 جس جانور کے دانت بالکل نہ ہوں تو اس کی قربانی جائز نہیں اور اگر کچھ گر گئے ہیں لیکن باقی زیادہ ہیں اور چارہ کھا سکتا ہے تو اس کی قربانی درست ہے ۔

 

 مسئلہ:

 جس جانو رکے بال کاٹ دیے گئے ہوں اس کی قربانی جائز ہے ۔

 

 مسئلہ:

 بانجھ جانور کی قربانی جائز ہے ، اس لیے کہ بانجھ ہونا قربانی کے لیے عیب نہیں ۔

 


 مسئلہ:

خصی بکرے ، مینڈھے او ربیل کی قربانی جائز ہے او راس میں کسی قسم کی کراہت نہیں ، چاہے خصیتین کو کاٹ دیا گیا ہو یا دبا کر بے کار کر دیا گیا ہو، اس لیے کہ یہ گوشت کی عمدگی کے لیے کیاجاتا ہے اور آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے بنفسِ نفیس خصی جانور کی قربانی فرمائی ہے ، اس لیے خصی ہونا نہ صرف یہ کہ عیب نہیں بلکہ قربانی کے جانور کا ایک پسندیدہ وصف ہے ۔

 

مسئلہ:

جس جانور کے پیٹ میں بچہ ہو اس کی قربانی صحیح ہے، البتہ ولادت کے قریب ذبح کرنا مکروہ ہے ، تاہم دبح کے بعد اگر بچہ زندہ ہو تو اس کو بھی ذبح کر لیا جائے اور کھا لیا جائے اور اگر مردہ ہو تو اس کا کھانا جائز نہیں۔

 


وہ جانور جن کی قربانی ناجائز ہے

مسئلہ:

جس جانور کے سینگ جڑ سے ٹوٹ گئے ہوں اس کی قربانی جائز نہیں۔

 

مسئلہ:

جس جانو رکے پیدائشی کان ہی نہیں ، یا پورا ایک کان کٹا ہوا ہے، یا تہائی حصہ یا اس سے زیادہ کٹا ہوا ہے ، اس کی قربانی درست نہیں ۔

 


مسئلہ:

جس جانور کی ناک کٹی ہوئی ہے ، اس کی قربانی جائز نہیں۔

 

مسئلہ:

جو جانور اندھا ہو یا اس کی تہائیبینائی یا اس سے زیادہ جاتی رہی ہو ، اس کی قربانی جائز نہیں۔

 


مسئلہ:

جس جانور کی زبان کٹی ہوئی ہو اور چارہ نہ کھا سکتا ہو اس کی قربانی درست نہیں ۔

 

 مسئلہ:

 جس جانور کے دانت بالکل نہ ہوں ، اس کی قربانی جائز نہیں۔

 

مسئلہ:

بھیڑ، بکری اور دنبی کے ایک تھن سے دودھ نہ اترتا ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں۔

 


 مسئلہ:

بھینس گائے اور اونٹنی کے دو تھنوں سے دودھ نہ اترتا ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں ۔

 

 مسئلہ:

 جو جانور اتنا لنگڑا ہے کہ فقط تین پاؤں سے چلتا ہے ، چوتھا پاؤں رکھا ہی نہیں جاتا یا رکھا تو جاتا ہے مگر جانور چل نہیں سکتا تو اس کی قربانی جائز نہیں۔

 

مسئلہ:

 جس جانور کی دُم ایک تہائی یا اس سے زیادہ کٹی ہوئی ہو تو اس کی قربانی درست نہیں۔

 

 مسئلہ: ایسا دُبلا اور لاغر جانور جس کی ہڈیوں میں گودانہ ہو ، یا ذبح کرنے کی جگہ تک نہ جاسکتا ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں۔

 

Saturday, July 2, 2022

conspiracy-of-qurbani

July 02, 2022 0
conspiracy-of-qurbani

 

قربانی کا فلسفہ اور مشروعیت


قربانی کا فلسفہ اور مشروعیت

شیخ التفسیر حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتیؒ نے فرمایا ۔

’’ فلسفہء قربانی کے متعلق شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ بات اس طرح سمجھاتے ہیں کہ اطاعت کی ادائیگی کا اصول یہ ہے کہ یہ اُس وقت ادا کی جاتی ہے جس وقت اللہ کی جانب سے کوئی نعمت ملی ہو اور یہ اطاعت یا عبادت اُس نعمت کی یاد آوری کا ایک ذریعہ ہوتا ہے ، مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے عبادت کے جو اوقات مقرر کئے ہیں ان میں بعض وہ ہیں جو اللہ کی کسی نعمت کی یاد دلاتے ہیں .

ماھی الأضاحی؟

July 02, 2022 0
ماھی الأضاحی؟

 

ومن یعظم شعائر اللہ



بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد لولیہ والصلوۃ علی نبیہ وبعد فان بعض الاخوان  یذکرون فی ھذہ الایام عدۃ ان الاضحیۃ افضل ام توزیع ثمنھا علی الفقراء والمساکین افضل۔ ولربما یتذاکرون حول الحج کذلک ۔فلاشک ان الانفاق فی سبیل للہ لایساویا ھا شیئ اخر فانہ افضل وافضل۔ ولکن ھنا لحظات تفکیر من جانب آخر وذلک ان عظمۃ شعائر اللہ فھومامور مستقل فی باب الشریعۃ والتقوی۔ ومستحسن ومطلوب۔

فمن ینفق علی الفقراء والمساکین فلینفق طول السنۃ ولاحرج والذی یھمنا فی ھذہ الایام سواء کان من مناسک الحج اوالاضحیۃ ذلک غیر ذلک من الاعمال فی عشرمن ذی الحجۃ ان نعمل بجد ونشطۃ کل ذلک ، ولانبالی سوی ذلک من الاعمال ، لاننا نعظم شعائراللہ

ولاعظمۃ ولااحترام فی ھذہ الایام الا باقامۃ المسناک والاضحیۃ بالکمال والرجاء بالقبول عند اللہ تعالیٰ۔
السؤال :

أيهما أفضل شراء أضحية وذبحها ، أم توزيع مبلغها على الفقراء ؟

الجواب :

بدايةً : إن طرح هذه الأسئلة التي انتشرت في الآونة الأخيرة

كقول بعض الناس : ( أُتركوا الطواف حول الكعبة وطوفوا حول الفقراء )

وقول آخرين : ( التصدق بثمن الأضحية أفضل من ذبحها )

وقول غيرهم : ( لقمة في فم جائع أفضل من بناء ألف جامع ) !!

للإجابة على هذه الأسئلة المفخخة نقول :

أولاً :

هذه الكلمات سواءاً كنت تعلم أو لا تعلم ، الغرض منها هو تزهيد المسلمين في الشعائر الظاهرة التي يظهر بها شعائر الإسلام ويتميزون بها عن غيرهم،

ومن يطلق مثل هذه المقولات يجهل حقيقة الدين وأحكامه الحكيمة وأولوياتها .

فالفقراء موجودون في كل زمان منذ عهد النبي صلى الله عليه وسلم إلى زماننا هذا ، ولم يقل أحد مثل هذا الكلام البارد .

ثانياً :

أغلب من يكثرون من العمرة ممن وسَّع الله عليهم معروفون بالصدقة وبالتبرعات أيضاً ، إذ لا يحرص ويكثر من العمرة غالباً إلا من كان قلبه عامراً بالإيمان.

ثالثاً :

لماذا لا تكون المقارنات إلا بين العمرة والأضحية وشعائر الإسلام وبناء المساجد ، وبين الفقراء ؟!

لماذا لا يقال : لا تشترِ لحماً مرتين في الأسبوع ، واشترِ مرة واحدة وطف حول الفقراء ؟!

لماذا لا يقال : لا تشربوا السجائر والخمور وادفعوا ثمنها للفقراء ؟!

لماذا لا يقال : لا تشتروا السيارات الباهظة الثمن وطوفوا حول الفقراء ؟!

لماذا لا يقال : اتركوا قاعات الأفراح وثمنها الباهظ وطوفوا حول الفقراء ؟!

لماذا لا يقال : اتركوا المصايف والتنزهات وطوفوا حول الفقراء ؟!

لماذا تُنفَق الأموال في الترف والغناء والأفلام والمسلسلات والمباريات والنت ، ولاتطوف هذه الأموال حول الفقراء ؟!

لماذا و لماذا ؟!

سؤالنا نحن الآن لكم :

لماذا لا تتركون لنا شعائرنا نتمتع بها ؟

لماذا تقارنون بين عبادتين كلتاهما ذات فضل ، وكأنه يُراد للناس أن يتركوا كل شيء ويهتموا بعبادة واحدة !

أيها الأخوة والأخوات :

إن هذه الأسئلة تُدبّر لنا بالليل ممن يكيدون لهذا الدين، ثم تخرج نهاراً على المسلمين، فيتلقفها السُذّج منهم والذين ينخدعون بظاهر العبارة ورونقها ، ولا يعلمون ما وراءها من عوامل هدم شعائر الإسلام الظاهرة والخفية .

ثم إن من يردد مثل هذه العبارات غالباً لا يطوفون حول الكعبة، ولا حول الفقراء أيضاً !!

وخلاصة الإجابة عن السؤال :

أن الأضحية أفضل فحافظ عليها

ولا تلتفت لهذه الدعوات التي تريد نفي شعائر المسلمين وإذهابها من الوجود .

وإذا ذبحت الأضحية وكنت حريصاً على الفقراء بهذا القدر ، فوزع الأضحية جميعها أو أكثرها على الفقراء .

تصدق أنت بمالك على الفقراء والمساكين ، واترك لنا أضحيتنا

فإن أبيت إلا أن تُزهدنا بشعائرنا ، فاسكت .

قال تعالى : ﴿ ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ ﴾

Tuesday, June 14, 2022

charity in Islam

June 14, 2022 0
charity in Islam



صدقہ و خیرات احادیث مبارکہ کی روشنی میں




 

صدقہ و خیرات احادیث مبارکہ کی روشنی میں

عن أبي ذر الغفاري -رضي الله عنه- مرفوعاً: لا تَحْقِرَنَّ من المعروف شيئا, ولو أن تَلْقَ أخاك بوجه طَلْق۔

ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:  کسی بھی نیکی کو ہر گزحقیر مت جانو، خواہ یہ تمہارا اپنے بھائی کے ساتھ خوش باش چہرے کے ساتھ ملنا ہی کیوں نہ ہو۔

حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ باہم ملنے کے وقت چہرے پر بشاشت ہونی چاہیے اور یہ کہ یہ ایسی نیکی ہے جسے کرنے کی مومن کو چاہت رکھنی چاہیے اور اسے حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔ کیونکہ اس سے مسلمان بھائی کے ساتھ انسیت پیدا ہوتی ہے اور اس سے وہ خوش ہوتا ہے۔  

*باب : اس بارے میں کہ جہنم کی آگ سے بچو خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے یا کسی معمولی سے صدقہ کے ذریعے ہو*

*والقليل من الصدقة ‏{‏ومثل الذين ينفقون أموالهم ابتغاء مرضاة الله وتثبيتا من أنفسهم‏}‏ الآية وإلى قوله* *"‏{‏من كل الثمرات‏} *

*اور ( قرآن مجید میں ہے ) ﴿ ومثل الذین ینفقون اموالہم ﴾ ( ان لوگوں کی مثال جو اپنا مال خرچ کرتے ہیں، سے فرمان باری ﴿ ومن کل الثمرات ﴾ تک۔*

*یہ آیت سورئہ بقرہ کے رکوع 35 میں ہے۔ اس آیت اورحدیث سے حضرت امام بخاری نے یہ نکالا کہ صدقہ تھوڑا ہو یا بہت ہر طرح اس پر ثواب ملے گا کیونکہ آیت میں مطلق “اموالہم” کا ذکر ہے جو قلیل اورکثیر سب کو شامل ہے۔*

*حدیث نمبر : 1415*

حدثنا عبيد الله بن سعيد: حدثنا أبو النعمان الحكم، هو ابن عبد الله البصري حدثنا شعبة، عن سليمان، عن أبي وائل، عن أبي مسعود رضي الله عنه قال: لما نزلت آية الصدقة، كنا نحامل، فجاء رجل فتصدق بشيء كثير، فقالوا: مرائي، وجاء رجل فتصدق بصاع، فقالوا: إن الله لغني عن صاع هذا، فنزلت: {الذين يلمزون المطوعين من المؤمنين في الصدقات والذين لا يجدون إلا جهدهم}. الآية.*

*ہم سے ابوقدامہ عبیداللہ بن سعید نے بیان کیا‘ کہا ہم سے ابوالنعمان حکم بن عبداللہ بصری نے بیان کیا‘ کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا‘ ان سے سلیمان اعمش نے‘ ان سے ابووائل نے اور ان سے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب آیت صدقہ نازل ہوئی تو ہم بوجھ ڈھونے کا کام کیا کرتے تھے ( تاکہ اس طرح جو مزدوری ملے اسے صدقہ کردیا جائے ) اسی زمانہ میں ایک شخص ( عبدالرحمن بن عوف ) آیا اور اس نے صدقہ کے طورپر کافی چیزیں پیش کیں۔ اس پر لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ یہ آدمی ریاکار ہے۔ پھر ایک اور شخص ( ابوعقیل نامی ) آیا اور اس نے صرف ایک صاع کا صدقہ کیا۔ اس کے بارے میں لوگوں نے یہ کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ کو ایک صاع صدقہ کی کیا حاجت ہے۔* *اس پر یہ آیت نازل ہوئی “ وہ لوگ جو ان مومنوں پر عیب لگاتے ہیں جو صدقہ زیادہ دیتے ہیں اور ان پر بھی جو محنت سے کماکر لاتے ہیں۔ ( اور کم صدقہ کرتے ہیں ) آخر تک۔*

*تشریح : یہ طعنہ مارنے والے کم بخت منافقین تھے‘ ان کو کسی طرح چین نہ تھا۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے اپنا آدھا مال آٹھ ہزار درہم صدقہ کردئیے تو ان کو ریاکار کہنے لگے۔ ابوعقیل رضی اللہ عنہ بچارے غریب آدمی نے محنت مزدوری سے کمائی کرکے ایک صاع کھجور اللہ کی راہ میں دی تو اس پر ٹھٹھا مارنے لگے کہ اللہ کو اس کی احتیاج نہ تھی۔*

*ارے مردود! اللہ کو تو کسی چیز کی احتیاج نہیں۔ آٹھ ہزار کیا آٹھ کروڑ بھی ہوں تو اس کے آگے بے حقیقت ہیں۔ وہ دل کی نیت کو دیکھتا ہے۔*

*ایک صاع کھجور بھی بہت ہے۔ ایک کھجور بھی کوئی خلوص کے ساتھ حلال مال سے دے تو وہ اللہ کے نزدیک مقبول ہے۔ انجیل شریف میں ہے کہ ایک بڑھیا نے خیرات میں ایک دمڑی دی۔*

*لوگ اس پر ہنسے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ اس بڑھیا کی خیرات تم سے بڑھ کرہے۔* *( وحیدی )*

*حدیث نمبر : 1416*

*حدثنا سعيد بن يحيى، حدثنا أبي، حدثنا الأعمش، عن شقيق، عن أبي مسعود الأنصاري ـ رضى الله عنه ـ قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أمرنا بالصدقة انطلق أحدنا إلى السوق فتحامل فيصيب المد، وإن لبعضهم اليوم لمائة ألف‏.‏*

*ہم سے سعید بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے شقیق نے اور ان سے ابو مسعودانصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے* *جب ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا تو ہم میں سے بہت سے بازار جاکر بوجھ اٹھانے کی مزدوری کرتے اور اس طرح ایک مد ( غلہ یا کھجور وغیرہ ) حاصل کرتے۔ ( جسے صدقہ کردیتے ) لےکن آج ہم میں سے بہت سوں کے پاس* *لاکھ لاکھ ( درہم یا دینار ) موجود ہیں*

*حدیث نمبر : 1417*

*حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن أبي إسحاق، قال سمعت عبد الله بن معقل، قال سمعت عدي بن حاتم ـ رضى الله عنه ـ قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ‏"‏ اتقوا النار ولو بشق تمرة‏"‏‏*

*ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا اور ان سے ابواسحاق عمروبن عبداللہ سبیعی نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن معقل سے سنا‘ انہوں نے کہا کہ میں نے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے سنا‘ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا کہ جہنم سے بچو اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا دے کر ہی سہی ( مگر ضرور صدقہ کرکے دوزخ کی آگ سے بچنے کی کوشش کرو )*

*تشریح : ان ہر دو احادیث سے صدقہ کی فضیلت ظاہر ہے اور یہ بھی کہ دور اول میں صحابہ کرام جب کہ وہ خود نہایت تنگی کی حالت میں تھے، اس پر بھی ان کو صدقہ خیرات کا کس درجہ شوق تھا کہ خود مزدوری کرتے‘ بازار میں قلی بنتے‘ کھیت مزدوروں میں کام کرتے‘ پھر جو حاصل ہوتا اس میں غرباءومساکین مسلمانوں کی امداد کرتے۔ اہل اسلام میں یہ جذبہ اس چیز کا بین ثبوت ہے کہ اسلام نے اپنے پیروکاروں میں بنی نوع انسان کے لیے ہمدردی وسلوک کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھردیا ہے۔ قرآن مجید کی آیت لَن تَنَالُو البِرَّ حَتّٰی تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ( آل عمران: 922 ) میں اللہ پاک نے رغبت دلائی کہ صدقہ وخیرات میں گھٹیا چیز نہ دو بلکہ پیاری سے پیاری چیزوں کا صدقہ کرو۔ برخلاف اس کے بخیل کی حد درجہ مذمت کی گئی اور بتلایا کہ بخیل جنت کی بو بھی نہ پائے گا۔یہی صحابہ کرام تھے جن کا حال آپ نے سنا پھر اللہ نے اسلام کی برکت سے ان کو اس قدر بڑھایا کہ لاکھوں کے مالک بن گئے۔*

*حدیث ولوبشق تمرۃ مختلف لفظوں میں مختلف طرق سے وارد ہوئی ہے۔ طبرانی میں ہے اجعلوا بینکم وبین النار حجابا ولوبشق تمرۃ اور دوزخ کے درمیان صدقہ کرکے حجاب پیدا کرو اگرچہ وہ صدقہ ایک کھجور کی پھانک ہی سے ہو۔ نیز مسند احمد میں یوں ہے لیتق احدکم وجہہ بالنار ولوبشق تمرۃ یعنی تم کو اپنا چہرہ آگے سے بچانا چاہئے جس کا واحد ذریعہ صدقہ ہے اگرچہ وہ آدھی کھجور ہی سے کیوں نہ ہو۔ اور مسند احمدی ہی میں حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا سے یوں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو خطاب فرمایا یاعائشۃ استتری من النار ولوبشق تمرۃ الحدیث یعنی اے عائشہ! دوزخ سے پردہ کرو چاہے وہ کھجور کی ایک پھانک ہی کے ساتھ کیوں نہ ہو۔*

*آخر میں علامہ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں۔ وفی الحدیث الحث علی الصدقۃ بماقل وماجل وان لا یحتقر ما یتصدق بہ وان الیسیر من الصدقۃ یستر المتصدق من النار ( فتح الباری ) یعنی حدیث میں ترغیب ہے کہ تھوڑا ہو یا زیادہ صدقہ بہر حال کرنا چاہیے اور تھوڑے صدقہ کو حقیر نہ جاننا چاہیے کہ تھوڑے سے تھوڑا صدقہ متصدق کے لیے دوزخ سے حجاب بن سکتا ہے۔

نیز یہ کہ صدقہ وخیرات کرنے کی بڑی اہمیت ہے اوردیگرکافی احادیث مبارکہ ہیں جن میں اس کی اہمیت کواجاگرکیاگیاہے۔ لہٰذا ذیل میں کچھ صورتیں صدقہ وخیرات کرنے کی پیش کی جاتی ہیں جن پرعمل پیرا ہوناآسان ہے۔

 

صدقے کے کچھ چھو ٹے چھو ٹے طریقے

01: اپنے کمرے کی کھڑکی میں یا چھت پر پرندوں کیلیئے پانی یا دانہ رکھیئے۔

02: اپنی مسجد میں کچھ کرسیاں رکھ دیجیئے جس پر لوگ بیٹھ کر نماز پڑھیں۔

03: سردیوں میں جرابیں/مفلر/ٹوپی گلی کے جمعدار یا ملازم کو تحفہ کر دیجیئے۔

04: گرمی میں سڑک پر کام کرنے والوں کو پانی لیکر دیدیجیئے۔

05: اپنی مسجد یا کسی اجتماع میں پانی پلانے کا انتظام کیجیئے۔

06: ایک قرآن مجید لیکر کسی کو دیدیجیئے یا مسجد میں رکھیئے۔

07: کسی معذور کو پہیوں والی کرسی لے دیجیئے۔

08: باقی کی ریزگاری ملازم کو واپس کر دیجیئے۔

09: اپنی پانی کی بوتل کا بچا پانی کسی پودے کو لگایئے۔

10: کسی غم زدہ کیلئے مسرت کا سبب بنیئے۔

11: لوگوں سے مسکرا کر پیش آئیے اور اچھی بات کیجیئے۔

12: کھانے پارسل کراتے ہوئے ایک زیادہ لے لیجیئے کسی کو صدقہ کرنے کیلئے۔

13: ہوٹل میں بچا کھانا پیک کرا کر باہر بیٹھے کسی مسکین کو دیجیئے۔

14: گلی محلے کے مریض کی عیادت کو جانا اپنے آپ پر لازم کر لیجیئے۔

15: ہسپتال جائیں تو ساتھ والے مریض کیلئے بھی کچھ لیکر جائیں۔

16: حیثیت ہے تو مناسب جگہ پر پانی کا کولر لگوائیں۔

17: حیثیت ہے تو سایہ دار جگہ یا درخت کا انتظام کرا دیجیئے۔

18: آنلائن اکاؤنٹ ہے تو کچھ پیسے رفاحی اکاؤنٹ میں بھی ڈالیئے۔

19: زندوں پر خرچ کیجیئے مردوں کے ایصال ثواب کیلئے۔

20: اپنے محلے کی مسجد کے کولر کا فلٹر تبدیل کرا دیجیئے۔

21: گلی اندھیری ہے تو ایک بلب روشن رکھ چھوڑیئے۔

22: مسجد کی ٹوپیاں گھرلا کر دھو کر واپس رکھ آئیے۔

23: مسجدوں کے گندے حمام سو دو سو دیکر کسی سے دھلوا دیجیئے۔

24: گھریلو ملازمین سے شفقت کیجیئے، ان کے تن اور سر ڈھانپیئے۔

25: اس پیغام کو دوسروں کو بھیج کر صدقہ خیرات پر آمادہ کیجیئے

صدقہ احادیث کی روشنی میں

1. برائی سے روکنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

2. نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

3. لا الہ الا الله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

4. سبحان الله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

5. الحمدلله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

6. الله اکبر کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

7. استغفرالله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

8. راستے سے پتھر,کانٹا اور ہڈی ہٹانا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

9. اپنے ڈول سے کسی بھائی کو پانی دینا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1956]

10. بھٹکے ہوئے شخص کو راستہ بتانا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1956]

11. اندھے کو راستہ بتانا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3368]

12. بہرے سے تیز آواز میں بات کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3368]

13. گونگے کو اس طرح بتانا کہ وہ سمجھ سکے صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]

14. کمزور آدمی کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]

15. مدد کے لئے پکارنے والے کی دوڑ کر مدد کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]

16. ثواب کی نیت سے اپنے گھر والوں پر خرچ کرنا صدقہ ہے۔ [بخاری: 55]

17. دو لوگوں کے بیچ انصاف کرنا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]

18. کسی آدمی کو سواری پر بیٹھانا یا اس کا سامان اٹھا کر سواری پر رکھوانا صدقہ ہے ۔ [بخاری: 2518]

19. دوسرے کو نقصان پہنچانے سے بچانا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]

20. نماز کے لئے چل کر جانے والا ہر قدم صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]

21. راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]

22. خود کھانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]

23. اپنے بیٹے کو کھلانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]

24. اپنی بیوی کو کھلانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]

25. اپنے خادم کو کھلانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]

26. کسی مصیبت زدہ حاجت مند کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [نسائی: 253]

27. اپنے بھائی سے مسکرا کر ملنا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1963]

28. پانی کا ایک گھونٹ پلانا صدقہ ہے۔ [ابو یعلی: 2434]

29. اپنے بھائی کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [ابو یعلی: 2434]

30. ملنے والے کو سلام کرنا صدقہ ہے۔ [ابو داد: 5243]

31. آپس میں صلح کروانا صدقہ ہے۔ [بخاری - تاریخ: 259/3]

32. تمہارے درخت یا فصل سے جو کچھ کھائے وہ تمہارے لئے صدقہ ہے۔ [مسلم: 1553]

33. بھوکے کو کھانا کھلانا صدقہ ہے۔ [بیہقی - شعب: 3367]

34. پانی پلانا صدقہ ہے۔ [بیہقی - شعب: 3368]

35. دو مرتبہ قرض دینا ایک مرتبہ صدقہ دینے کے برابر ہے۔ [ابن ماجہ: 3430]

36. کسی آدمی کو اپنی سواری پر بٹھا لینا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1009]

37. گمراہی کی سر زمین پر کسی کو ہدایت دینا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1963]

38. ضرورت مند کے کام آنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3368]

39. علم سیکھ کر مسلمان بھائی کو سکھانا صدقہ ہے۔ [ابن ماجہ: 243]

close