Short+Positive+Quotes - ROSHAN STARS

knowledge islamic quotes articles poims islamic education tips and tricks apps and games for pc android apps latest news for information technology

google Search

Thursday, July 11, 2019

Short+Positive+Quotes





اہم نصیحتیں








اہم نصیحتیں

۱) آنحضرت نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : جو بندہ نافرمانی کی ذلت سے نکل کر فرماں برداری کی طرف آجائے تو اللہ تعالیٰ :
٭ بغیر مال کے اس کو غنی بنا دیں گے ۔
٭ بغیر لشکر کے اس کی مدد فرمائیں گے۔
٭ بغیر خاندان کے اس کو عزت عطا فرمائیں گے۔
روایت ہے کہ آنحضر ت ﷺ ایک روز صحابہ کرام کے پاس تشریف لائے اور ارشاد فرمایا : تم نے کس حال میں صبح کی ؟ انہوں نے عرض کیا، ہم نے اس حال میں صبح کی کہ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں۔ حضور ﷺ نے پھر ارشاد فرمایا: تمہارے ایمان کی علامت کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : 
٭ہم تکلیف پر صبر کرتے ہیں ٭خوشحالی پر شکر کرتے ہیں ٭تقدیر پر راضی ہوتے ہیں۔
آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا: رب کعبہ کی قسم !بے شک تم مؤمن ہو۔‘‘
۲) اللہ تعالیٰ نے بعض انبیاء علیہ السلام کی طرف اس طرح کی وحی بھیجی ہے۔
٭ جو شخص مجھ سے اس حال میں ملاقات کرلے کہ وہ مجھ سے محبت کرتا ہو، میں اس کو اپنی جنت میں داخل کروں گا۔
٭ جو شخص مجھ سے اس حال میں ملا قات کرلے کہ وہ مجھ سے ڈرتا ہو، تو میں اس کو اپنی جہنم سے دور رکھوں گا۔
٭ جو شخص مجھ سے اس حال میں ملا قات کرلے کہ وہ مجھ سے حیا کرتا ہو، میں کراما ً کاتیبن(فرشتوں ) کو اس کے گناہ بھلا دوں گا۔
۳) حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے :
٭ اللہ تعالیٰ نے تم پر جو چیزیں فرض فرمائی ہیں ان کو ادا کرو لوگوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار بن جائو گے۔
٭ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں سے بچو ، لوگوں میں سب سے زیادہ زاہد بن جائو گے۔
٭ اللہ تعالیٰ نے تم کو جوکچھ عطا فرمایا اس پر راضی رہو ، لوگوں میں سب سے زیادہ غنی بن جائو گے۔
۴) حضرت صالح مرقدی رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ وہ بعض مکانوں کے پاس سے گزرے(مکانوں کو مخاطب کرکے )ارشاد فرمایا:
٭ تمہارے پہلے مالک کہاں چلے گئے ؟
٭ تمہارے آباد کرنے والے کہاں ہیں؟
٭ تمہارے اندر پہلے رہنے والے کہاں ہیں؟
ہاتف غیبی نے آواز دی:
٭ ان کے نشانات مٹ گئے۔
٭ان کے اعمال ان کی گردنوں میں ہار بنا کر ڈال دیے گئے۔
۵) حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔
٭ جس پر چاہو احسان کرو، پس تم اس کے امیر ہو۔
٭ جس پر چاہو سوال کرو پس تم اس کے غلام ہو۔
٭ جس پر چاہو استغنا ء اختیا ر کرو ، پس تم بھی اسی کے مثل (غنی) ہو۔
۶) مصائب سے مت گھبرائیے اس لیے کہ ستارے اندھیروں میں ہی چمکتے ہیں۔
۷) حضرت ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے: ان سے دریافت کیا گیا کہ تم نے کس چیز کی وجہ سے زہد کو اختیار کیا ،ارشاد فرمایا: تین چیزوں کی وجہ سے :
٭ میں نے دیکھا کہ قبر وحشت ناک جگہ ہے اور میرے پاس میرا کوئی مونس نہیں۔
٭ میں نے دیکھا کہ راستہ طویل ہے اور میرے پاس توشہ نہیں۔
٭ میں نے دیکھا فیصلہ کرنے والا خدائے جبار ہے اور میرے پاس کوئی حجت نہیں۔
۸) حضرت شبلی سے منقول ہے جو بڑے عارف ہیں، وہ (مناجات میں)کہا کرتے تھے۔
٭ الٰہی !میں اپنی حاجت مندی اور ناتوانی کے باوجود پسند کرتا ہوں کہ اپنی تمام نیکیاں آپ کو بخش دوں، پس اے میرے آقا !آپ کیسے پسند نہیں فرمائیں گے کہ میرے تمام گناہ بخش دیں حالانکہ آپ اے میرے سردار مجھ سے بے نیاز ہیں۔
٭ ان کا یہ بھی ارشاد ہے : جب تم اللہ تعالیٰ سے انس حاصل کرنا چاہو تو اپنے نفس سے وحشت اختیار کرو۔
٭ اور یہ بھی ارشاد فرمایا: اگر تم وصال کی حلاوت چکھ لو تو فراق کی تلخی پہچان سکتے ہو، مطلب یہ ہے جو شخص وصال کی حلاوت سے ناآشنا ہے وہ فراق کی تلخی بھی نہیں سمجھ سکتا ۔کسی شاعر نے کہا ہے:
جس نے اسے یار پایا
تازیست نہ پھر اقرار پایا
۹) حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے: ان سے دریافت کیا گیا ، اللہ تعالیٰ کے ساتھ انس کیا چیز ہے ؟فرمایا یہ ہے کہ:
٭کسی حسین چہرہ ٭کسی حسین آواز 
٭ اور خوش بیان زبان کے ساتھ انس حاصل کرو۔
٭ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے ارشاد فرمایا:’’زہد‘‘کے تین حروف ہیں۔
۱)زا ۲)ہا ۳)دال
٭ پس زا سے مراد ہے زاد المعاد ، آخرت کا توشہ۔
٭ دال سے مراد ،دوام علی الطاعات ، اطاعت پر ہمیشگی۔
ایک دوسرے مقام پر فرمایا: زہد کے تین حروف ہیں:
٭ زا سے مراد ،ترک زینت ،زینت ترک کردینا۔
٭ ہا سے مراد ترک خواہش نفس، نفس کی خواہش کو ترک کردینا۔
٭ دال سے مراد ترک دنیا، دنیا کو ترک کردینا
۱۱) حضرت حامد رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ ان کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے ان سے وصیت کرنے کی درخواست کی ۔ انہوں نے جواب دیا ، اپنے دین کے لیے غلاف بنالینا ، جس طرح قرآن پاک کے لیے غلاف ہوتا ہے ان سے سوال کیا گیا دین کا غلا ف کیا ہے؟ 
انہوںنے جواب دیا: 
٭ ترک کلام مگر بضرورت 
٭ ترک دنیا مگر حسب ضرورت
٭ ترک اختلاط مگر بقدر ضرورت
فائدہ  : ۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح سے قرآن پاک کی حفاظت کے لیے غلاف کی ضرورت ہوتی ہے اس طرح دین کی حفاظت کے لیے بھی غلاف کی ضرور ت ہے اور وہ غلاف یہ تین چیزیں ہیں کہ ان تینوں چیزوں کو بالکلیہ ترک کردیا جائے کہ ان تینوں سے ہی زیادہ تر دین کا نقصان ہوتا ہے، صرف بقدر ضرورت کہ اس کے بغیر چارہ ہی نہ ہو اختیار کیا جائے۔ پھر جان لو کہ اصل زہد یہ تین چیزیں ہیں :
٭ حرام چیزوں سے اجتناب وہ چھوٹی ہوں یا بڑی
٭ تمام فرائض کی ادائیگی وہ آسان ہو یا دشوار
٭ دنیا کو اہل دنیا پرچھوڑ دینا وہ قلیل ہو یا کثیر
۱۲) حضرت لقمان حکیم رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو نصیحت فرمائی، بیٹا انسان کے تین حصے ہوتے ہیں:
٭ ایک حصہ اللہ کے لیے 
اللہ کا حصہ اس کی روح ہے
٭ ایک حصہ نفس کے لیے 
اس کے نفس کے لیے اس کا عمل ہے
٭ ایک حصہ کیڑے مکوڑوں کے لیے 
کیڑے مکوڑوں کے لیے اس کا جسم ہے
۱۳) حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے منقول ہے، انہوں نے ارشاد فرمایا: تین چیزیں حفظ کو بڑھاتی ہیں اوربلغم کو دور کرتی ہیں۔
٭مسواک
٭روزہ
٭تلاوت قرآن پاک
۱۴) حضرت کعب احبا ررحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے: مومنوں کے لیے شیطان سے حفاظت کے تین قلعے ہیں:
٭ مسجد ایک قلعہ ہے
٭ ذکر اللہ ایک قلعہ ہے
٭ تلاوت قرآن پاک ایک قلعہ ہے
۱۵) بعض حکماء سے منقول ہے : انہوںنے فرمایا: تین چیزیں اللہ کے خزانوں میں سے ہیںکہ وہ چیزیں اللہ تعالیٰ اپنے محبوب بندوں ہی کو عطا فرماتے ہیں:
٭ فقر (کہ اس کے ذریعہ بہت سے گناہوں اور دنیوی تکالیف سے انسان محفوظ رہتا ہے)۔
٭ مرض(کہ اس کے ذریعہ بہت سے گناہ بخش دیے جاتے ہیں)۔
٭ صبر (کہ رفع درجات کا سبب ہے)۔
۱۶) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ان سے سوال کیا گیا:
٭ بہترین دن کون سا ہے؟ ٭بہترین مہینہ کون سا ہے ٭بہترین عمل کونسا ہے؟
انہوں نے جواب دیا:
٭ بہترین دن جمعہ کا دن ہے۔
٭ بہترین مہینہ رمضان ہے۔
٭ بہترین عمل پانچ وقت کی نماز ان کے وقت پر ادا کرنا ہے۔
اس کی خبر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پہنچی کہ ان سے یہ سوال کیا گیا تھا اور انہوں نے یہ جواب دیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر مشرق ومغرب کے درمیان تمام علماء حکمااور فقہاء سے یہ سوال کیا جائے تو وہ سب بھی یہی جواب دیں گے جو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے دیا مگر ایک بات اور کہتا ہوں:
٭ بہترین عمل وہ ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ قبول کرلے۔
٭ بہترین مہینہ وہ ہے جس میں تم اللہ تعالیٰ سے کامل توبہ کرلو۔
٭ بہترین دن وہ ہے جس دن تم دنیا سے اللہ تعالیٰ کے پاس ایمان کی حالت میں نکل جائو۔
شاعر نے کہا ہے:
کیا تو نہیںدیکھتا کس طرح ہم کو روز وشب آزمارہے ہیں اور ہم ظاہر وباطن میں کھیلنے میں مشغول ہیں ہر گز دنیا اور اس کی نعمتوں کی طرف مائل مت ہو اس لیے اس کا وطن اصل وطن نہیں ہے اور مرنے سے پہلے پہلے اپنے لیے عمل کرلے پس دوستوں اور بھائیوں کی کثرت تجھے دھوکہ میں نہ ڈال دے۔
مقولہ: جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے تو :
٭ اللہ تعالیٰ اس کو دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔
٭ دنیا سے بے رغبت بنا دیتا ہے۔
٭ اپنے نفس کے عیوب کو دیکھنے والا بنا دیتا ہے۔
۱۷) حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے منقول ہے:
٭ لوگوں کے ساتھ حسن محبت سے پیش آنا نصف عقل ہے۔
٭ حسن سوال آدھا علم ہے۔
٭ حسن تدبیر آدھی معیشت ہے۔
۱۸) حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے:
٭ جو شخص دنیا کو ترک کر دیتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کو محبوب رکھتا ہے ۔ 
٭ جو شخص گناہوں کر ترک کردیتا ہے فرشتے اس کو محبوب رکھتے ہیں۔
٭ جو شخص مسلمانوں سے طمع ختم کرلے مسلمان اس کو محبوب رکھتے ہیں۔
۱۹) حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے:
٭ دنیا کی نعمتوں میں سے نعمت اسلام کافی ہے۔
٭ مشاغل سے شغل عبادت کافی ہے۔
٭ عبرت کی چیزوں میں سے موت عبرت کے لیے کافی ہے۔
۲۰) حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے:
٭ کتنے لوگ ہیں کہ ان پر نعمت کیے جانے کی وجہ سے وہ گناہوں میں مبتلا ہوگئے ہیں،(اگر اللہ تعالیٰ ہم سے ناراض ہوتا تو ہم سے یہ نعمت چھین لی جاتی ہے)معلوم ہو ا کہ اللہ تعالیٰ ہماری اس حالت سے خوش ہے اس لیے وہ بدستور گناہوں میں مبتلا رہتے ہیں۔
٭ کتنے لوگ ہیں جو اپنی تعریف کیے جانے کی وجہ سے فتنے میں مبتلا ہوگئے ہیں، یعنی خوشامدی قسم کے لوگ جو تعریف کرتے ہیں اس سے فتنے میں مبتلا ہوگئے ہیں یعنی لوگ ہماری تعریف کیوں کرتے ہیں، اس لیے بدستور اپنی بدحالی میں مبتلا رہتے ہیں اور اپنی اصلاح کی کوئی فکر نہیں کرتے۔
٭ کتنے لوگ ہیں جو اپنے عیوب پر پردوہ پوشی کی وجہ سے فریب میں مبتلا ہوگئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے پردہ پوشی فرمانے کی وجہ سے لوگ عزت واکرام کا معاملہ کرتے ہیں جس سے اپنے آپ کو عندا لہہ مقبو ل سمجھتے ہیں یہ نہیں سمجھتے کہ اگر اللہ تعالیٰ پردہ پوشی نہ فرماتے تو کوئی بات کرنا گوارہ نہ کرتا۔
۲۱) حضرت دائود علیہ السلام سے منقول ہے کہ انہوں نے ارشاد فرمایا ہے۔ زبور میں وحی کی گئی ہے کہ عقل مند پر لازم ہے کہ تین چیزوں کے علاوہ کسی چیز میں مشغول نہ ہو:
٭ آخرت کے لیے توشہ کی تیاری
٭ کسب معاش
٭ حلال کے ذریعہ طلب لذت
۲۲) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے آنحضرت ﷺ کا ارشاد عالی منقول ہے:
٭ تین چیزیں نجات دینے والی ہیں۔
٭ تین چیزیں ہلاک کرنے والی ہیں
٭ تین چیزیں بلند ی درجات کا ذریعہ ہیں۔
٭ تین چیزیں گناہوں کے کفارہ کا ذریعہ ہیں۔
تین نجات دینے والی چیزیں
٭ سرا ً وعلانیۃ (ظاہر وباطن میں اللہ تعالیٰ کا خوف (کہ خلوت وجلوت میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کرے)۔
٭ تنگدستی وخوشحالی میں میانہ روی (ایسا نہ ہو خوشحالی میں اسراف میں مبتلا ہوجائے)۔
٭ رضا مندی وناراضگی میں عدل وانصاف (ایسا نہ ہو کہ کسی سے ناراض ہو تو اس کے بارے میں انصاف بھی نہ کرے جیسا کہ عموما ہوتا ہے)
تین ہلاک کرنے واہی چیزیں
٭ شدت بخل( حقوق واجبہ بھی ادا نہ کرے)۔
٭ ہوائے نفس جس کا اتباع کیا جائے ( کہ ہوائے نفسانی میں حدود شرع کی بھی پرواہ نہ کرے)۔
٭ خود پسندی (کہ دوسروں کو حقیر سمجھنے لگے)۔
تین درجات بلند کرنے والی چیزیں
٭ سلام کو عام کرنا(کہ ہر مسلمان کو سلام کرے خواہ اس سے تعارف ہو یا نہ ہو)۔
٭ کھانا کھلانا (حسب وسعت)
٭ رات کے وقت جب لوگ سوئے ہوئے ہوں نماز پڑھنا (یعنی تہجد کی نماز پڑھنا)۔
فائدہ :سلام کرنے سے :
٭ دل کی کدورتیں ختم ہوجاتی ہیں۔
٭ باہم الفت ومحبت پیدا ہوتی ہے۔
٭ کبر ختم ہوجاتا ہے۔
٭ کبر سے پیدا ہونے والی برائیاں بھی ختم ہوجاتی ہیں۔
٭ سلام ایک جامع دعا ہے۔ سلام کو عام کرنے سے ایک دوسرے کے لیے دعائں کا سلسلہ عام ہوجاتا ہے۔
کھانا کھلانے سے:
٭ رنجش ختم ہوجاتی ہے ٭ باہم الفت پیدا ہوتی ہے
٭ بخل ختم ہوجاتا ہے۔
٭ بخل سے پیدا ہونے والی برائیاں( حقوق واجبہ ادا کرنا وغیرہ ختم ہوجاتی ہیں)۔
رات کے وقت نماز پڑھنے سے :
٭ اخلاص پید ا کرتا ہے جو ہر عمل کی جان ہے۔
٭ اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا ہوجاتی ہے ، جس سے ہر نیکی کی رغبت اور معاصی سے نفرت پیدا ہوجاتی ہے ۔
٭ جو شخص نماز تہجد کی پابندی کرتا ہے دیگر نمازوں کی پابندی بدرجہ اولیٰ کرتا ہے۔
تین گناہوں کا کفارہ کردینے والی چیزیں:
٭ سردی میں وضو کامل کرنا ۔
٭ باجماعت نماز کے لیے قدم اٹھا کر چلنا۔
٭ نماز کے بعد نماز کا انتظار کرنا۔
حضرت جبرئیل علیہ السلام کی نصیحت :
۲۳) حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تین نصیحتیں فرمائیں:
٭ جتنا چاہے زندہ رہو آخر مرنا ہے
٭ جس سے چاہے دوستی کرلو ،آخر اس سے جدا ہونا ہے۔
٭ جو چاہے عمل کرو آخر کار اس کا بدلہ ملنا ہے۔
فائدہ  :مطلب یہ ہے کہ جب آخر کو مرنا ہی ہے تو اس کے لیے تیاری کرنا چاہیے اور جب ہر دوست سے جدا ہونا ہی ہے تو اس ذات سے تعلق قائم کرنا چاہیے جس سے کبھی جدائی نہیں ہوگی ، یعنی حق تعالیٰ شانہ سے ۔
عارف رومی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے:
عشق بامردہ بنا شد پائیدار 
عشق را باحّی وباقیوم دار 
اور جب ہر عمل کا بدلہ ملناہے یعنی نیک عمل کا اچھا بدلہ اور برے عمل کا برا بدلہ تو ہر ہر نیکی کو کوشش کرنا چاہیے اور ہر ہر برائی سے پرہیز کرنا چاہیے۔
۲۴) حضرت ابراہیم علیہ السلام سے دریافت کیا گیا کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے کس چیز کی وجہ سے خلیل بنایا؟ ارشاد فرمایا: تین چیزوں کی وجہ سے : 
٭ میں نے اللہ کے حکم کو اس کے غیر کے حکم پر اختیار کیا۔
٭ جس چیز کا اللہ تعالیٰ نے میرے لیے ذمہ لیا ہے میں نے اس کی فکر نہیں کی۔
٭ مہمان کے بغیر صبح یا شام کا میں نے کبھی کھان نہیں کھایا۔
بعض حکما ء سے منقول ہے:
تین چیزیں رنج وغم کو دور کرتی ہیں:
٭ اللہ کا ذکر
٭ اولیاء اللہ کی ملاقات
٭ عقلمندوں کا کلام
(۲۵) حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے:
٭ جس کو ادب نہیں اس کو علم نہیں۔
٭ جس کو صبر نہیں اس کو دین نہیں۔
٭ جس کے لیے پرہیز گاری نہیں اس کے لیے قرب خدا وندی نہیں۔
فائدہ  : مطلب یہ ہے کہ علم کا تقاضا ادب ہے کہ ہر کسی کے ساتھ اس کے مناسب ادب سے پیش آئے، اگر کسی شخص میں علم کے باوجود ادب نہیں تو یہ کہا جائے گا کہ گویا علم ہی نہیں۔
اسی طرح دین کے اندر خلاف مزاج باتوں پر صبر کرنا چاہیے ، اگر کسی کے اندر صبر نہیں تو اس کا دین پختہ او رکامل نہیں۔
اسی طرح اللہ کا قرب پرہیز گاری کے بقدر ہوگا، اگر کسی میں پرہیز گاری نہیں تو اللہ کا قرب اس کو حاصل نہیں۔
منقول ہے کہ ایک اسرائیلی شخص تحصیل علم کے لیے نکلا، اس کی خبر ان کے نبی کو پہنچی اور انہوں نے اس شخص کو طلب کیا۔ وہ شخص حاضر ہوا تو انہوں نے اس سے فرمایا:اے جوان!تجھ کو تین چیزوں کی نصیحت کرتا ہوں ، ان میں اولین وآخرین کا علم ہے۔
٭ دنیا سے محبت نہ کرے، اسی لیے کہ وہ مومنین کا گھر نہیں۔
٭ شیطان کی ہم نشینی اختیار نہ کرے، اس لیے کہ وہ مومنین کا رفیق نہیں۔
٭ کسی کو ایذا نہ پہنچائے، اس لیے کہ یہ مومنین کا پیشہ نہیں۔
(۲۶) ابوسلیمان درانی رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ وہ مناجات میں کہا کرتے تھے:
الٰہی !اگر تو مجھ سے میرے گناہ کا مطالبہ کرے گا تو میں تجھ سے تیری معافی کو طلب کروں گا۔
٭ اگر تومیرے بخل کا مطالبہ کرے گا تو میں تجھ سے تیری سخاوت کو طلب کروں گا۔
٭ اگر تو مجھ کو جہنم میں داخل کرے تو میں جہنمیوں کو خبردار کروں گا کہ مجھ کو تجھ سے محبت ہے۔
(تاکہ جہنمیوں کو محبین خدا کا حال معلوم ہوکر کچھ تسلی ہو)۔
مقولہ: جس شخص کو تین چیزیں حاصل ہیں وہ سعادت مند ہے۔
۱) جاننے والا دل ۔
۲) صبرکرنے والا بدن 
۳) اپنے پاس جو موجود ہو اس پر قناعت 
(۲۷) حضرت ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ پہلے لوگ جو ہلاک ہوئے وہ تین باتوں کی وجہ سے ہلاک ہوئے:
۱) فضول کلام
۲) زیادہ کھانا
۳) زیادہ سونا
فائدہ  :  جب فضول کلام ہوگا تو غیبت ، چغلی ہوگی۔ زیادہ کھانے سے زیادہ شہوت پیدا ہوگی اور زیادہ سونے سے سستی کاہلی پیدا ہوتی ہے۔
(۲۸) حضرت یحییٰ بن معاذ زاری رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے، اس شخص کے لیے مبارک باد ہے جو یہ تین کام کرے۔
۱) جو دنیا کو چھوڑ دے اس سے پہلے کہ دنیا اس کو چھوڑ دے ۔
۲) جو قبر میں داخل ہونے سے پہلے قبر کو (نیک اعمال کے ذریعے )آراستہ کرلے۔
۳) اپنے رب سے ملاقات سے پہلے اس کو راضی کرلے۔
(۲۹) حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جس کے پاس تین چیزیں نہیں اس کے پاس کچھ بھی نہیں: وہ تین چیزیں یہ ہیں:
۱) اللہ تعالیٰ کی سنت۔
۲) رسول اللہ ﷺ کی سنت ۔
۳) اولیاء اللہ کی سنت
دریافت کیا گیا ، اللہ تعالیٰ کی سنت کیا ہے؟ارشاد فرمایا:راز کاچھپانا۔ عرض کیا گیا : رسول اللہ ﷺ کی سنت کیا ہے؟ارشاد فرمایا: لوگوں کے ساتھ نرمی ومہربانی سے پیش آنا۔ عرض کیا گیا: اولیاء اللہ کی سنت کیا ہے؟ارشاد فرمایا: لوگوں کی تکالیف کو برداشت کرنا۔
پہلے زمانہ کے لوگ ایک دوسرے کو تین چیزوں کی وصیت کرتے تھے۔ اور آپس میں ایک دوسرے کو لکھ کردیا کرتے تھے۔ وہ تین چیزیں یہ ہیں:
٭ جو شخص اپنی آخرت کے لیے عمل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے دین اور دنیا دونوںکی کفایت فرمادیتے ہیں۔
٭ جو شخص اپنے باطن کو درست کرلیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ظاہر کو بھی درست کردیتا ہے۔
٭ جو شخص اپنے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان معاملہ صحیح کرلیتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے اور لوگوں کے درمیان معاملہ کو بھی صحیح کردیتا ہے۔
(۳۰) حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے:
۱)اللہ کے نزدیک لوگوں میں سب سے بہتربن کر رہو۔
۲)اپنے نفس کے نزدیک لوگوں میں سب سے بدترین بن کر رہو۔
۳)لوگوں کے نزدیک ایک عام انسان بن کر رہو۔
مقولہ  :۔ حضرت عزیر نبی علیہ السلام کی طرف اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
٭ اے عزیر! جب تم چھوٹا گناہ کرو،اس کے چھوٹے ہونے کو نہ دیکھو بلکہ اس کو دیکھو جس کا گناہ کیا ہے۔
٭ جب تم کو معمولی خیر پہنچے اس کے معمولی ہونے کو نہ دیکھو بلکہ اس کو دیکھو جس نے وہ تم کو عطا کی ہے۔
٭ جب تم کو تکلیف پہنچے ۔ میری مخلوق سے میری شکایت نہ کرو، جس طرح جب تمہارے گناہ مجھ تک پہنچتے ہیں تو میں اپنے فرشتوں سے تمہاری شکایت نہیں کرتا۔
(۳۱) حضرت حاتم اصم رحمۃ اللہ علیہ کا ارشاد ہے کہ : ہر روز صبح ہوتی ہے تو شیطان مجھ سے کہتا ہے:
۱) تو کیا کھائے گا؟
۲) کیا پہنے گا؟
۹۳ کہاں رہے گا؟
میں اس کو جواب دیتا ہوں۔
۱) موت کو کھائوں گا۔
۲) کفن پہنوں گا۔
۳) قبر میں رہوں گا۔

close