muslim-leaders - ROSHAN STARS

knowledge islamic quotes articles poims islamic education tips and tricks apps and games for pc android apps latest news for information technology

google Search

Tuesday, December 6, 2022

muslim-leaders

حضرت مولانا سیدحسین احمد مدنی

 


 

حضرت مولانا سیدحسین احمد مدنی

سوانحی خاکہ،علمی وسیاسی اورملی خدمات

برصغیر پاک وہند کی آزادی کے عظیم رہنما امامِ راشد شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ  خصائصِ سیرت پر ایک نظر

ڈاکٹر ابو سلمان شاہ جہاں پوری

علم وعمل کی دنیا میں عظیم الشان شخصیت کے ناموں کے ساتھ مختلف خصائص وکمالات کی تصویریں زہن کے پردے پر نمایاں ہوتی ہیں، لیکن شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی علیہ الرحمہ کا نام زبان پر آتا ہے تو ایک کامل درجے کی اسلامی زندگی اپنے ذہن وفکر ، علم وعمل اور اخلاق وسیرت کے تمام خصائص وکمالات اور محاسن ومحامد کے ساتھ تصور میں ابھرتی اور ذہن کے پردوں پر نقش ہو جاتی ہے۔

اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ اسلامی زندگی کیا ہوتی ہے؟ تو میں پورے یقین اور قلب کے کامل اطمینان کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ حسین احمد مدنی کی زندگی کو دیکھ لیجئے اگرچہ یہ ایک قطعی اور آخری جواب ہے لیکن میں جانتا ہوں کہ اس جواب کو علمی جواب تسلیم نہیں کیا جائے گا اور ان حضرات کا قلب اس جواب سے مطمئن نہیں ہو سکتا، جنہوں نے اپنی دور افتادگی وعدم مطالعہ کی وجہ سے یا قریب ہو کر بھی اپنی غفلت کی وجہ سے ، یا اس وجہ سے کہ کسی خاص وذوق ومسلک کے شغف وانہماک ، یا بعض تعصبات نے ان کی نظروں کے آگے پردے ڈال دیئے تھے اور وہ حسین احمد کے فکر کی رفعتوں ، سیرت کی دل ربائیوں اور علم وعمل کی جامعیت کبریٰ کو محسوس نہ کرسکے تھے اور ان کے مقام کی بلندیوں کا اندازہ نہ لگا سکے تھے۔ اس لیے ضروری ہوگیا ہے کہ حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی کے فکر اور سیرت کے بعض خصائص کی طرف قارئین کرام کو توجہ دلاؤں۔

جامعیت علوم وفنون:

حضرت شیخ الاسلام ایک بلند پایہ عالم دین تھے۔ وہ اپنے دور کے بے مثال محدث تھے درس و تدریس اور تحقیق حدیث میں ان کا پایہ بہت بلند تھا تدریس حدیث میں ان کا ایک خاص اسلوب تھا جس نے انہیں اقران وامثال میں امتیاز بخشا تھا وہ بہت بڑے فقیہ تھے اور انہیں نہ صرف فقہ کے مسائل ازبر تھے بلکہ فقہ وحدیث میں ان کا درجہ ایک محقق اور مجتہد کا تھا وہ مفسر بھی تھے اور نہ صرف حروف وسواد کی رہنمائی میں بلکہ معانی کی گہرائی میں اتر کر قرآن کے بصائر وحکم اور مسائل واحکام کی تشریح وتفسیر فرماتے تھے وہ ایک زاہد شب زندہ دار بزرگ اور اپنے وقت کے ایک عظیم الشان شیخ طریقت تھے انہیں انسان کے امراض نفس وقلب کا پتا چلانے میں حذاقت کا کمال حاصل تھا معالجہ نفس وطبائع اور اصلاح وتزکیہ میں انہیں یدطولیٰ ملا تھا۔ تاریخ عالم میں ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا اور تاریخ معاشیات ہند کے وہ ایک عظیم اسکالر تھے بحر سیاسیات ہندو انقلابات عالم اسلامی کے وہ بے مثل شناور تھے ۔ وہ ایک بلند پایہ مصنف تھے اور افکار کی دنیا میں ہلچل پیدا کردینے اور اپنے عہد کے مشہور خطیب بھی تھے جنگ آزادی میں انہوں نے اپنے جسم وجان اور وقت ومال کی بے مثال قربانیاں دی ہیں وہ ایک صاحب عزیمت شخص تھے ان کی زندگی میں بے شمار مواقع ایسے آئے تھے جب وہ رخصت سے فائدہ اٹھاسکتے تھے لیکن ان کی عزیمت اور بلند ہمتی سے رخصت کی پناہ گاہوں کی پستیوں اور ذلتوں کی طرف کبھی نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ عزائم وقت میں ان کے ذوق فکر وعمل کا پایہ ہمیشہ بلند رہا۔ ذوق میزبانی سے انہیں حصہ وافر ملا تھا وہ اپنے دور کے علماء وامرا اور صوفیہ ومشائخ میں سب سے بڑے مہمان نواز تھے۔ عرب خے حسن طبعیت اور عجم کے سوزدروں سے ان کی طبعیت کا خمیرا ٹھا تھا۔

حضرت شیخ الاسلام کے یہ تمام وہ کمالات ہیں جو حضرت کی صحبت وقربت رکھنے والا ہر شخص محسوس ومعلوم کرلیتا تھا۔ اور آج بھی حضرت کی زندگی کے مطالعے سے بہ آسانی ان خصائص وکمالات کا اندازہ کرلیا جاتا ہے لیکن میں حضرت کے بعض ان کمالات کی طرف آپ کی توجہ دلاؤں گا جن کے وزن وقدر کے اندازے کے لیے علم وسائنس کی اس ترقی یافتہ دنیا میں ابھی تک کوئی میزان اور پیمانہ ایجاد نہیں ہوا ہے۔

اخلاص:

حضرت شیخ الاسلام کے ان کمالات میں سے جو دیکھے اور دکھائے نہیں جاسکتے ۔ البتہ کوئی شخص بے میل ذوق ، متوازن ذہن اور قلب سلیم کی نعمتوں سے نوازا گیا ہو تو وہ حضرت کے ان خصائص وکمالات کو محسوس کرسکتا ہے۔

حضرت کی سیرت کا پہلا عنصر، حسنِ اخلاص ہے لیکن اخلاص کیا ہے اخلاص ایک جوہر سیرت ہے اس کا بیج قلب کی سرزمین میں پھوٹتا ہے برگ و بار پیدا کرتا ہے اور اس کی سرمدی مہک سے مشام روح معطر ہو جاتا ہے ۔ اس جو ہر سیرت کو ہم اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھ نہیں سکتے لیکن ذوق بے میل اور قلب سلیم ہو تو اسے خوشبو کی طرح محسوس ضرور کرلیا جاسکتا ہے۔ جوہر اخلاص دادوتحسین سے بے نیاز اور ستائش کی تمنا سے بے پروا ہوتا ہے۔ اخلاص چاہتا ہے کہ صلہ وثواب کی آرزو سے قلب کو پاک کرلیا جائے ۔ حسن اخلاص عشق کے مدعی سے مطالبہ کرتا ہے کہ میری محبت کا دم بھرتے ہو اور میرے قلب وصال کے طالب ہو تو پہلے اپنی ذات کے تمام اغراض سے دس بردار ہو جاؤ اور دنیاوی عیش وراحت کی ہر خواہش کو اپنے دل سے نکال پھینکو۔ غیرت اخلاص انسانی سیرت کی کسی کوتاہی کو برداشت نہیں کرسکتی۔ اخلاص اور لوث وغرض کبھی ایک قلب میں جمع نہیں ہو سکتے۔ صاحب غرض کبھی صاحب اخلاص نہیں ہو سکتا، جو بے غرض ہو تا ہے وہی صاحب اخلاص ہوتا ہے اور جو بے غرض ہوتا ہے وہ بے پناہ ہوتا ہے اور اسے بہ قول ایک عارف کے تلوار بھی نہیں کاٹ سکتی۔

حضرت شیخ الاسلام بے غرض تھے۔ قوم وملت کی خدمت کو شعار بنا یا اور تحریکِ آزادی کی راہ میں قدم رکھا تو پہلے اپنے قلب کو غرض سے پاک کرلیا تاکہ کوئی تلوار انہیں کاٹ نہ سکے۔ حیدر آباد دکن کے وظیفے کی رشوت ہو یا کسی سرکاری مدرسے (مثلاً مدرسۂ عالیہ کلکة) کی پرنسپل شپ کی پیشکش ہو یا جامعہ ازہر مصر کے منصب بلند کا لالچ ہو ۔ حالات کی سنگینی کا خوف ہو یا خاندان کے مستقبل کا اندیشہ ، انہوں نے ہر خوف وحزن سے اپنے قلب کو پاک کرلیا تھا۔ اگر انہوں نے دارالعلوم میں کوئی مقام حاصل کیا تھا یا جمعیة علمائے ہند کی صدارت کو قبول کرلیا تھا تو صرف کسی کو آگے بڑھتے اور ذمہ داری کا بوجھ اٹھاتے نہ دیکھ کر، اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کا میدان خالی پاکر اور غلام ملک میں استعمار واستبداد کے عذاب سے سسکتی انسانیت کو نجات دلانے کے لئے صرف اپنے اسلامی اور انسانی فرض کی ادائیگی کے لیے قدم آگے بڑھایا تھا۔ اگرچہ حضرت کا اخلاص تیس سال سے زیادہ عرصے تک آزمائش کی کسوٹی پر بار بار پرکھا جاتا رہا تھا اور آپ کے اخلاص کا سونا ہر دفعہ زر خالص ثابت ہو چکا تھا، لیکن ابھی آزمائش کا ایک مرحلہ باقی تھا یہ مرحلہ ملک کی آزادی کے بعد اس وقت پیش آیا جب حضرت کی خدمت میں ملک کا سب سے بڑا سول اعزاز پدم بھوشن پیش کیا گیا اگر ہندوستان میں چند حضرات اس کے مستحق تھے تو حضرت اس اعزاز کا سب سے زیادہ استحقاق رکھتے تھے یہ حضرت کی عظیم الشان قومی خدمات کا صلہ نہیں، اعتراف تھا یہ اعزاز حکومت یا انتظامیہ کی طرف سے نہیں تھا بلکہ قوم کی جانب سے ملک کو آزادی اور قوم کو غلامی واستبداد کے عذاب سے نجات دلانے میں ان کی خدمات کے لئے اظہار تشکر تھا اس کو قبول کرلینے کے جواز میں، ایک سو ایک دلیلیں پیش کی جاسکتی تھیں اور آج بھی کہ ملک کی آزادی کو نصف صدی پوری ہونے والی ہے اور ایک قرن آپ کی وفات حسرت آیات پر بھی گزر چکا ہے ، اس اعزاز کے لیے آپ کے استحقاق اور جواز کے بارے میں دو رائیں نہیں ہو سکتیں آپ کو معلوم ہے کہ حضرت شیخ الاسلام نے قوم کی اس پیش کش اعزاز کا کیا جواب دیا تھا؟

کیا یہی جواب نہ تھا کہ میں نے جو کچھ کیا وہ اسلام کے ایک شرعی حکم اور ملکی فرض کی ادائیگی کے لیے تھا صلہ دستائش کی آرزو، اعتراف خدمت کے جذبے اور کسی اعزاز ومنزلت کے لیے نہ تھا۔

اسقامت: حضرت شیخ الاسلام کی سیرت کی ایک خوبی وہ ہے جسے ہم استقامت سے موسوم کرتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ ایک شخص اپنے معتقدات وافکار میں نہایت مخلص ہو سکتا ہے لیکن اخلاص کے لیے یہ لاز م نہیں ہوتا کہ اس میں استقامت بھی ہو، یہ بات بالکل اسی طرح ہوتی ہے کہ جس طرح ایک صاحب استقامت کے لیے ضروری نہیں ہوتا کہ وہ راہ حق وصواب پر بھی ہو۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص اپنے فکر میں مخلص ہوتا ہے لیکن وہ راہ حق وحریت کے شدائد و مصائب کو برداشت نہیں کرسکتا۔

اگر آپ چاہیں تو رہروان جادۂ حق وحریت کو ان کے ذوق فکر وعمل کے لحاظ سے اس طرح تقسیم کرسکتے ہیں ۔

١۔ وہ حضرات جو فکر صحیح رکھتے ہیں یعنی حق پسند ہوتے ہیں لیکن راہ عمل وسعی کے شدائد اور اعلان حق کے نتائج سے اس درجہ خوف زدہ ہوتے ہیں کہ لسان حق کا اعتراف واعلان نہیں کرسکتے۔

٢۔ وہ حضرات جو فکر صحیح بھی رکھتے ہیں اور لساناً حق کا اعتراف واعلان بھی کردیتے ہیں لیکن آزمائش کی کسوٹی پر پورے نہیں اترتے

٣۔ وہ حضرات جو حق شناس بھی ہوتے ہیں ، اعلان واظہار حق سے بھی ان کی زبانیں بند نہیں رہتیں اور جب اس راہ کی مشکات پیش آتی ہیں انہیں خوف زدہ کرنے کے لیے پھانسی کے تختے لگا دیئے جاتے ہیں، آزمائش کی صلیبیں کھڑی کردی جاتی ہیں اور تعذیر وتعذیب کے لیے زندانوں اور کال کوٹھریوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ پھر انہیں متاثر کرنے کیلئے ان کے سامنے سے انعام یافتہ انسان نما حیوانوں کی قطاریں گزاری جاتی ہیں۔ پھر ان سے دریافت کیا جاتا ہے کہ بتاؤ حالات ووقت میں سچائی کا راستہ کون سا ہے؟ لیکن وہ نہ تو کسی چیز سے متاثر ہوتے ہیں،نہ کسی بات سے خوفزدہ ہوتے ہیں اور نہ کسی عمل سحر سے دھوکہ کھاتے ہیں۔ ان کا جواب ایک ہی ہوتا ہے کہ تو اپنی طاقت وقوت سے دھوکہ کھاتے ہیں۔ ان کا جواب ایک ہی ہوتا ہے کہ تو اپنی طاقت وقوت سے دھوکا نہ کھا۔ اقدار کا گھمنڈ نہ کر، انسانوں پر ظلم سے باز اور باطل اور غلامی کے مقابلے میں حق وآزادی کے انتخاب کا حق ان سے نہ چھین۔

حضرت شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رہروان جادۂ حق وحریت کی اس آخری جماعت کے رہنما تھے۔ آپ جانتے ہیں کہ کسی طاقت کی طرف سے کسی عہدہ ومنصب کی پیشکش سیدھی انگلی سے گھی نکالنے کی کوشش کا نام ہے اقتدار کے راستے سے کسی کو ہٹانے کی کوشش کا یہ پہلا مرحلہ ہوتا ہے پس ضروری ہے کہ اگر گھی سیدھی انگلیوں سے نہ نکلے تو انہیں ٹیڑھا کرلیا جائے اور اگر پہلے مرحلے میں کامیابی نہ ہو تو قیدوبند اور تعزیر وتعذیب کے دوسرے مرحلے کا آغاز کردیا جائے حضرت شیخ الاسلام کی پوری زندگی تاریخ کی روشنی میں دنیا کے سامنے ہے جسے دیکھنے کے لیے کسی باطنی بصیرت کی ضرورت نہیں ، ظاہری آنکھوں سے دیکھ اور پڑھ لیا جاسکتا ہے کہ قیدو بند اور تعزیر وتعذیب کے ہر مرحلے میں آپ کی استقامت غیر متزلزل رہی۔ جس طرح حکومت کی کوئی پرفریب پیش کش آپ کے اخلاص کو متزلزل نہ کرسکی تھی۔ اسی طرح تعذیر وتعذیب کا خوف آپ کے پا ثبات کو اس کی جگہ سے نہ ہلا سکا۔

آپ میں سے بعض حضرات شاید اس بات میں شک کریں کہ ایک دور میں ایک جماعت کی طرف سے حضرت کے خلاف جو ہنگامہ برپا کیا گیا تھا اسے ملک کے خان بہادروں، نوابوں ، جاگیرداروں کی سرپرستی اور حکومت کی پشت پناہی حاصل تھی لیکن اس بات کو تو بہر حال آپ تسلیم فرمائیں گے کہ کسی صاحب اخلاص ودیانت کا دنیا بھر کو راضی رکھنا اور خوش کرنا ممکن نہیں ۔ ممکن ہے ایک بڑی جماعت کو وہ اپنے اخلاص ودیانت کا گرویدہ بنالے لیکن افراد کی ایک چھوٹی سی چھوٹی جماعت اس کی مخالف ضرور رہ جائے گی۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ افراد کی اس چھوٹی سی جمعیة کا تعلق اس خاص جماعت کے نظام فکر سے نہ تھا جس کے وہ واقعی رکن یا کارکن تھے لیکن سوال یہ ہے کہ اختلاف وناراضگی کی صورت میں ان کا رویہ کیا ہونا چاہئے تھا؟ آپ اس سوال کا جواب دینے کی زحمت نہ اٹھائیے۔ لیکن یہ ضرور سوچئے کہ مخالفت اور توہین وتضحیک کے اس طوفان بے تمیزی میں حضرت شیخ الاسلام کی استقامت کا کیا عالم رہا؟

خواہ آپ زبان سے اس کا اقرار نہ رکیں لیکن آپ کا دل گواہ دے گا کہ آزمائش کے اس مرحلے میں بھی جو حکومت کی طرف سے قیدوبند او ر تعزیر وتعذیب کی صورت میں پیش آیا ہو، خواب کسی جماعت کے کارکنوں کی طرف سے غیر شریفانہ مخالفت اور تضحیک وتوہین کی صورت میں نمایاں ہوا ہو، حضر ت شیخ الاسلام کا اخلاص بے عیب اور استقامت بے داغ ثابت ہوتی ہے۔

جامع مذہب وسیاست :

حضرت شیخ الاسلام کی ایک خوبی علم وعمل ، دین وسیاست، تصور وحقیقت، روزوشب کے معمولات اور ملی قومی تقاضوں، واجبات دنیا وفکر آخرت کا حسن امتزاج و توازن اور کمال جامعیت ہے۔

ہماری تاریخ بڑے بڑے اصحاب علم سے ، عظیم مدبروں اور مفکروں سے ، نہایت ذہین افراد سے ملک وقوم کے بڑے بڑے خدمت گزاروں ، نہایت دین داروں، شیرف دنیا پرستوں سے، عدیم المثال شاعروں سے ، سراپا عمل مجاہدوں سے ، شب زندہ دار زاہدوں اور عابدوں سے اور اپنے علم وعمل سے یا اپنے ذہن کی فکر پیمائیوں اور تخیل آفرینیوں سے ایک دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈالنے والوں سے کبھی خالی نہیں رہی لیکن حضرت شیخ الاسلام کے توازن وجامعیت کی شخصیت کی دید کے لیے چشم نرگ کو صدیوں تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔

حضرت شیخ الاسلام علم وعمل کی جامعیت کی مثال تھے۔

وہ عالم تھے مگر فکرو فلسفہ کی گھتیاں ہی نہ سلجھاتے رہے، عملی زندگی کے تقاضوں کو بھی ملحوظ رکھا۔ زندگی کے میدان میں ان کی شخصیت سراپا عمل نظر آتی ہے لیکن علم وفکر کی دنیا سے ان کا رشتہ اس وقت بھی قائم ہوتا تھا دین کے واجبات اور سیاست کے فرائض میں ایک ایسا حسین توازن پیدا کیا تھا کہ خالص سیاسی ہنگاموں اور ہجوم افکار واعمال میں بھی فرائض وسنن تو کیا مستحبات بھی نہ چھوٹتے تھے آپ کی ذات گرامی تصور وحقیقت کا مجمع البحرین تھی روزوشب کے معمولات میں فی اللیل رہبان وفی النھار فرسان کی مثال تھے۔ حضرت دین وسیاست کی تفریقی کے قائل نہ تھے لیکن آپ کے موازن فکر اور جامع سیرت کا کمال یہ تھا کہ قوم اور ملت کا ہر تقاضا اور ہر کام اپنے وقت پر اور اپنے دائرے میں صحیح طور پر انجام پاتا رہا ۔

وہ انسان جو اپنا جی جان اور خاندان کنبہ رکھتا ہے ان کے واجبات اور ذمہ داریوں سے کیوں کر چھٹکارا پاکستا ہے، بچوں کی پرورش ان کی تعلیم وتربیت اور ان کی زندگی کی ضروریات واحتیاجات بعض اوقات انسان کو فکر آخرت سے غافل بھی کردیتی ہیں لیکن ٹھیک اسی طرح آخرت کی فکر اورعبادت وریاضت کا ذوق وانہماک بھی دنیاوی واجبات وفرائض میں غفلت اور کوتاہی کا موجب ہوتا ہے جام شریعت اور سندان عشق سے کھیلان اور دونوں کے حدود برقراررکھنا ، ہر مدعی اتباع شریعت اور حقوق عبادودنیا کے فہم ادراک کا ذوق رکھنے والے کے لیے ممکن نہیں رہتا لیکن حضرت شیخ الاسلام کے لیے جام وسندان کا یہ ملاپ محض ایک کھیل تھا۔ حضرت کا کمال یہ تھا کہ وہ ایک کامل درجے کی دینی واسلامی زندگی اور اس کے تمام ظاہری وباطنی لوازم کے ساتھ سیاست کے بحر مواج میں تختہ بندی کا عزم لے کر اترے تھے اور اس کے پانی کی ایک چھینٹ سے اسلامی شرعی زندگی کو آلودہ اور دامن تر کیے بغیر وہ زندگی کے آخری سفر پر روانہ ہوگئے۔

فیضان سیرت کا ایک خاص پہلو:

اب میں حضرت شیخ الاسلام کے فیضان سیرت کے ایک خاص پہلو کی طرف آپ کی توجہ دلاناچاہتا ہوں۔

آپ جانتے ہیں کہ کسی خاص کمیونٹی کے مفادات کی بات کرنا، اس میں مذہبی عصبیت پیدا کرنا، اس کے افراد کو منظم کرنا، انہیں خاص انداز سے تعلیم دینا ، ان کی تربیت کرنا اور اس کمیونٹی کے سامنے ایک نصب العین رکھنا اور اگر پہلے سے کوئی نصب العین ہو جو فراموش کردیا گیا ہو تو اسے یاد دلانا اور اس کے لیے جان ومال کی قربانی اور وقت کے ایثار کی دعوت دینا اور اسی ذریعے کو اس کی ہر طرح کی کامیابی کا ضامن قرار دینا عام طور پر فرقہ واریت کہلاتا ہے اور کسی سوسائٹی میں فرقہ واریت کی زہر ناکی اور سمیت اس کی زندگی اس کی جمعیة اور امن وسکون کے لیے تباہی اور ہلاکت کا جو سروسامان اپنے اندر رکھتی ہے اس پر کسی بحث کی ضرورت نہیں ۔ حضرت شیخ الاسلام کی زندگی آپ کے سامنے ہے اس کا یہ پہلو چھپا ہوا نہیں کہ حضرت نے مسلمانوں کے ملی اورفرقہ وارانہ مفاد کو ہمیشہ پیش نظر رکھا۔ مسلمانوں میں مذہبی عصبیت پیدا کی۔ ان میں اسلامی زندگی پیدا کرنے کی تلقین کی۔ رضائے الٰہی اور اتباع سنت کو زندگی کا نصب العین بنانے اور اسلامی فکروسیرت کو اپنانے کی دعوت دی اور اسلام اور صرف اسلام کے لیے جان ومال اور وقت کے ایثاروقربانی کا جذبہ پیدا کرنے کے زندگی بھر داعی رہے جمعیة کے نظام کو مستحکم کرنے یعنی مسلمانوں کی بہترین خدمات انجام دیںے کے لیے رضا کاروں کے ایک مستحکم نظام کی ضرورت کو محسوس کیا اور ملت کے جاں نثاروں کا ایک نظم قائم بھی کردیا اور جیس اکہ پہلے عرض کرچکا ہوں کہ حضرت خود بھی ایک کامل درجے کی دینی اور شرعی زندگی رکھتے تھے صرف اتنا ہی نہیںبلکہ انہوں نے ذبیحۂ گاؤ کے لئے ہمیشہ اصرار کیا نہرو رپورٹ کی مخالفت کی ، بندے ماترم کے خلاف احتجاج کیا واردھا تعلیمی اسکیم کو رد کرتے ہوئے ایک متبادل تعلیم اسکیم پیش کی۔ سی پی گورنمنٹ کی وویا مندر اسکیم کو جوں کا توں قبول کرنے سے صاف انکار کیا۔ کشمیر اور دوسری ریاستوں میں مسلم حقوق کی پامالی کے خلاف نہ صرف جمعیة کے پلیٹ فارم سے احتجاج کیا، اخبارات میں مضامین لکھوائے اور عملی میدان میں حصہ لیا، گاندھی جی کے پرارتھنا کے گیت کو مسلمانوں کے عقیدے کے بالکل خلاف، مسلمانوں کے لیے قطعاً ناقابل قبول بتایا اور اسے صرف گاندھی جی کا فعل قرار دیا۔

١٩٣٧ء اور١٩٣٨ء کے دوران میں کانگریسی حکومتوں کے کردار اور فیصلوں کے خلاف سب سے زیادہ لیکن سنجیدہ، مدلل اور مثبت تنقید کے محاذ کے رہنما حضرت شیخ الاسلام تھے۔

ان تمام باتوں کے باوجود یہ حقیقت اور حضرت کی سیرت کا یہ فیضان بھی ملک کے سامنے ہے کہ اس سے فرقہ واریت پیدا نہیں ہوئی جو انسانی سوسائٹی کے لیے تباہی اور ہلاکت کا موجب ہوتی ہے حضرت شیخ الاسلام ایک مذہبی شخصیت ہونے کے باوجود ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح کے قومی رہنما تھے حالانکہ تاریخ میں ایسے قومی رہنماؤں اور سیرتوں کی مثالیں بھی موجود ہیں جو اگرچہ قطعاً مذہبی نہ تھیں اور بقول مولانا غلام رسول مہر مسلمان تھے لیکن سورۂ اخلاص بھی نہ پڑھ سکتے تھے لیکن ان کے ایک ایک قول اور ایک ایک عمل نے انسانی سوسائٹی اور ملک کی معاشرتی زندگی میں مذہبی تعصب اور منافرت کا جو زہر گھولا تھا ، وہ چالیس سال سے زیادہ عرصے میں بھی دور نہ ہو سکا۔ اور فرقہ واریت کا جو سبق ایک خاص قومی سطح پر حالات سے نمٹنے کے لیے پڑھایا گیا تھا، اس کے اثرات نے معاشرتی زندگی کو تہ وبالا اور باہمی اعتماد ومحبت کی فضا کو مسموم کردیا ہے۔

جو بات کہنا چاہتا ہوں ، یہ ہے کہ ایک شخص نے پڑوسی کو ڈرانے کے لیے (تعصب کا) ایک کتا پا لا تھا بھونکنا اور کاٹنا کتے کی فطرت میں شامل ہوتا ہے ایک مدت کے بعد مالک نے ضرورت نہ سمجھتے ہوئے کتے کو آزاد کردیا اب وہ کتا دوسروں ہی کو نہیں اپنے سابق مالک کے خاندان کو بھی بھنبھوڑ رہا ہے۔ پورا خاندان خوف زدہ ہے۔ خاندان کا اطمینان وسکون تباہ ہوگیا ہے اب مالک دوبارہ اس کے گلے میں پٹا ڈالنا اور اسے قابومیں کرنا چاہتا ہے لیکن اب یہ اس کے بس کی بات نہیں رہی یہ ایک عذاب الٰہی ہے اللہ تعالیٰ کسی قوم کو اس کی بداعمالیوں اور ظلموں سے باز آجانے کے لیے زیادہ سے زیادہ مہلت دیتا ہے اور رحمت الٰہی انتظار کرتی ہے کہ نزول عذاب سے پہلے وہ قوم اپنی بداعمالیوں سے باز آجائے، لیکن جب اس کی مہلت ختم ہو جاتی ہے اور عذاب کا نزول شروع ہو جاتا ہے تو پھر سنت الٰہی پوری ہو کر رہتی ہے اور قوم کو اس کی بداعمالیوں کی پوری پوری سزا ملتی ہے۔

اور یہ حضرت شیخ الاسلام کی سیرت ہی کا فیضان ہے کہ حضرت کے وابستگان دامن، وہ ہندوستان میں ہوں ، خواہ پاکستان میں یا دنیا کے کسی اور ملک میں ہوں ، فرقہ واریت کے جذبات سے پاک ، تعصب ومنافرت سے دور ونفور، خدا کی مخلوق سے سب سے بڑھ کر محبت کرنے والے اور دنیا کے سب سے زیادہ فراخ قلب انسان ہیں، صاحب عزم وہمت ہیں، اپنے مذہب پر مستقیم ، اپنے اعتماد میں راسخ اور اپنے دلوں میں سارے جہاں کا درد اور احترام آدمیت لیے ہوئے بلا تفریق مذہب وملت دنیا کے تمام انسانوں کی خدمت کے لیے ہمہ وقت آمادہ ومستعد نظر آتے ہیں۔

حضرت شیخ الاسلام کی سیرت کے اس پ ہلو کے مطالعے اس کے فیضان کے مشاہدے اور حالات کے تجزئیے سے ہم یہ نتیجہ بھی نکالتے ہیں کہ یہ خیال ہر گز درست نہیں کہ فرقہ سراریت یا تعصب کا تعلق مذہبی خیالات وافکار یا تعلیمات سے ہے۔

سیاسی رہنمائی:

حضرت شیخ الاسلام جنگ آزادی میں صف اول کے رہنما تھے۔ ریشمی رومال تحریک کی وہ اہم شخصیت تھے(١٩١٧ء ) قید مالٹا سے رہائی اور ہندوستان واپسی (١٩٢٠ئ) کے بعد حضرت نے ایک بھرپور سیاسی زندگی گزاری ۔ اس دوران میں سب سے پہلی تحریک خلافت کی تھی اس کے لئے ترک موالات کا جو پروگرام وضع کیا گیا تھا اسے کامیاب بنانے اور تحریک خلافت کے مقاصد کے حصول کے لیے آپ نے سرگرم حصہ لیا۔(٢١۔١٩٢٠ئ) سائمن کمیشن کو بے ضرورت سمجھااور اس کی مخالفت کی (١٩٢٧ئ) کمیونل ایوارڈ کو قومی مقاصد کے لیے نہ صرف ناکافی سمجھا بلکہ نقصان دہ تصور کیا اور اس کی مخالفت کی (١٩٣٢ئ) واردھا تعلیمی اسکیم پر تنقید کی اور اسے قابل قبول بنانے کیلئے مناسب ومثبت تجاویز پیش کیں(١٩٢٨ئ) شاردا ایکٹ کے خلاف تحریک کے رہنماؤں میں آپ ایک بلند قامت شخصیت تھے(١٩٢٩ئ) سول میرج کے قانون کے خلاف تحریک پیدا کی(١٩٣٢ئ) اسلامی اوقاف کی حفاظت اور انہیں ان کے متعین مصارف میں خرچ کرنے اور حکومت کے دست تصرف سے انہیں بچانے کی کوششوں کی رہنمائی کا شرف جمعیة علمائے ہند اور اس کے صدرنشین حضرت شیخ الاسلام کو حاصل تھا(١٩٣٧ئ) ودیا مندراسکیم کو اس کی طے شدہ صورت میں قبول کرنے سے انکار کیاّ١٩٣٨ئ) اردو کے بارے میں یوپی کانگریس کمیٹی اور کانگریس حکومت کے رویے کو انصاف اور کانگریس کی متفقہ پالیسی کے خلاف پایا تو انہیں فرقہ وارانہ نقطۂ نظر سے باز رکھنے کی کوشش کی(١٩٣٨ئ) شریعت بل کے نفاذ کی کوششوں میں سب سے زیادہ منظم حصہ حضرت کی جماعت نے لیا تھا(١٩٣٧ء ) نظم جماعت کی تحریک کی رہنمائی (١٩٢٠ئ)سے اور امارت شرعیہ کے قیام کی تحریک کا سہرا جمعیة علمائے ہند اور اس کے زعما کے سر ہے۔ اس کی تاریخ ١٩٤٧ء سے تقریباً ٢٥ سال پہلے شروع ہوتی ہے انفساخ نکاح کے قانون، خلع بل ، قاضی بل، طلاق کا ترمیمی بل وغیرہ کے لیے کوششیں (٤١۔١٩٣٩ئ) حضرت شیخ الاسلام اور جمعیة علمائے ہند جس کے آ پ صدر تھے، کی ملی خدمات میں سنہری حرفوں سے لکھی جائیں گی۔

حضرت شیخ الاسلام کے یہ تمام کارنامے ملی مفاد اور اسلامی شرعی زندگی کے لیے قیام وتحفظ کے نقطہ نظر سے تھے آپ نے ان تمام تحریکوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جن کا فائدہ کسی ایک قوم یا ملت کے لیے مخصوص نہ تھا بلکہ ان کے فوائد نہ صرف پورے ملک کے لیے عام تھے۔ بیرون ملک کے مسلمان ممالک اور تمام برطانوی مقبوضات اور دنیا کی تمام محکوم اور غلام قوموں کو پہنچنے والے تھے ۔ ان تحریکوں میں سب سے بڑی تحریک ملک کی آزادی اور استقلال قومی کی تحریک تھی ،اس کے بعد ریشمی رومال اور خلافت کی تحریکات اور ترک موالات کا پروگرام تھا، پھر سول نافرمانی کی تحریک (١٩٣٠ء و١٩٤٠ء ) نمک ستیہ گرہ، کھدر کے استعمال اور سودیشی مال کے بائیکاٹ کی تحریکات پیدا ہوئی اور آخری اہم تحریک ہندوستان چھوڑدو کی تحریک (١٩٤٢ء ) تھی۔ حضرت شیخ الاسلام نے ان تمام تحریکوں میں حصہ لیا اور اس سلسلے میں آپ کو قیدو بند کی صعوبتوں اور ایثاروقت ومال کی آزمائشوں سے گزرنا پڑا۔

١٩٤٠ء کے بعد آپ کو سخت آزمائشوں اور بڑی کٹھنائیوں سے گزرنا پڑا۔ خا ص طور پر ملک کی آزادی سے قبل کے ڈھائی تین برس آپ کے لیے سخت مشکلات کے تھے۔ اس دوران لوگ آپ کی جان کے لاگو اور عزت کے دشمن ہوگئے تھے۔ آپ کو نہ صرف تحریک پاکستان کا مخالف بلکہ مسلمانوں کا دشمن کہا گیا۔ حالانکہ ہندوستان کے سیاسی مسئلے میں آپ اپنا ایک نظریہ اور مسئلے کے حل کے لیے ایک فارمولا رکھتے تھے اگر کوئی دوسرا نظریہ رکھنے والا جمعیة علماء کے زعما سے یہ توقع رکھتا کہ وہ اس کے حق میں اپنے نظرئیے اور اس کے لیے اپنے بہترین دلائل سے دست بردار ہو جائیں و یہ حق حضرت شیخ الاسلام جمعیة علمائے ہند اور دوسری قوم پر ور مسلمان جماعتوں اور ان کے زعما کو بھی حاصل ہونا چاہئے تھا کہ وہ ان کے حق میں اپنے نظرئیے اور اپنے دلائلس ے دستبردار ہو جائیں۔ جمعیة علمائے نے جو فارمولا وزارتی مشن کے سامنے پیش کیا تھا اور جسے مدنی فارمولا کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اسے مجلس احرار اسلام، مومن کا نفرنس، جمعیة القریش، شیعہ پولیٹیکل کانفرنس، مسلم مجلس کے علاوہ سندھ ، بلوچستان، سرحد، بنگال وغیرہ کی متعدد جماعتوں کی بھی حمایت حاصل تھی۔ لیکن کسی جماعت نے دوسری جماعت سے بے سوچے سمجھے اس منصوبے کو مان لینے کی توقع کے بجائے اصل مسئلے پر سنجیدگی کے ساتھ اور ٹھنڈے دل سے غور کرنے اور متفقہ طور پر کسی ایک نتیجے پر پہنچنے کی آرزو کی تھی۔

مدنی فارمولا:

شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ملک کی سیاسی اور فرقہ وارانہ مسئلے میں اپنی ایک مستقل رائے رکھتے تھے۔ حضرت کے نزدیک اس مسئلے کا صحیح ترین حل وہ فارمولا تھا جسے جمعیة علمائے ہندنے اپنے پلیٹ فارم سے ١٩٣١ء میں پیش کیا تھا اور بعد میں بعض وضاحتوں اور تشریح کے ساتھ ١٩٤٥ء میں قوم کے سامنے رکھا تھا اور یہی فارمولا ملک کی قوم پرور جماعتوں کی تائید کے ساتھ کیبنٹ مشں کے سامنے پیش کیا تھا جس کے بارے میں مشں کی رائے تھی کہ یہ ایک سنجیدہ غور وفکر کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے، اس کے پیچھے سیاسی بصیرت کارفرما ہے اور قابل عمل اس فارمولے میں برصغیر ہندوسان کے ہر صوبے کو مستقل اکائی کی حیثیت حاصل تھی، چند مفوضہ امور کے علاوہ تمام معاملات میں صوبے آزادوخود مختار تھے۔ مفوضہ امور کی ذمے داری مرکز کی تھی مرکز کی ہیئت ترکیبی میں ٢٥ ہندوؤں کے بالمقابل ٤٥ سیٹیں مسلمانوں کی تھیں جب کہ ١٠ سیٹیں اقلیتوں کے لیے مخصوص تھیں کوئی ایسا سیاسی ، اجتماعی ، تہذیبی معاشرتی مسئلہ جس کا تعلق مسلمانوں سے ہو، ان کی دو تہائی اکثریت کے اتفاق رائے کے بغیر طے نہیں کیا جاسکتا تھا۔

یہ وہی منصوبہ تھا جس کے صوبوں کو مختلف گروپوں کی شکل میں مرکز کی اسی ہیئت ترکیبی کے ساتھ وہی حقوق واختیارات تفویض کئے گئے تھے اور کانگریس کی طرف سے مولانا ابو الکلام آزاد نے پیش کیا تھا اور کیبنٹ مشن نے بعض جزوی ترامیم کے بعد اپنا لیا تھا اور ملک کی دیگر جماعتوں کے بہ شمول مسلم لیگ کے زعما کی اس یقین دہانی پر کہ اس کے ذریعے پاکستان کی بنیاد فراہم کردی گئی ہے ، مسلم لیگ کونسل نے بھی اسے منظور کرلیا تھا، لیکن کانگریس کے صدر پنڈت جواہر لال نہرو کی جانب سے اس منصوبے کی ایک شق کی غلط تشریح سے فائدہ اٹھا کر مسلم لیگ اس منصوبے کے بارے میں اپنی منظوری سے دستبردار ہوگئی اور اپنے سابق موقف پر لوٹ گئی۔ جس پر اس کے ثبات نے تقسیم ملک کے نتیجے اور قیام پاکستان کے انجام پر پہنچا دیا۔

اب جس طرح اس عہد کی خوبیاں بانیان پاکستان کے نصیب کی تاریخ ہیں، اسی طرح اگر اس دور میں ہندوستان کے مسلمانوں کے مسئلے میں پیچیدگیاں پیدا ہوئی ہیں یا پاکستان میں مختلف قومیتوں اور مقامی اور غیر مقامی کے مسئلے نے سراٹھایا ہے ، اسلامی نظام کے نفاذ کی منزل تقریباً نصف صدی کی مسافت طے کرنے کے بعد بھی قریب نظر نہیں آتی، اسلام کے نظام سیاسی یا طرز حکمرانی کا مسئلہ ہنوذ تصفیہ طلب ہے اسلامی تہذیب کی تعریف پر بھی اگر اتفاق نہیں ہو سکا، اردو ہندی مسئلے کے بجائے اردو بنگالی مسئلہ پیدا ہو کر ملک دولخت ہو چکا ہے ، اردو اور مقامی زبانوں کا مسئلہ موجود ہے اور اردو کے نفاذ کی راہ بھی ہموار نہیں اور سب سے بڑھ کر شریعت کا مسئلہ ہی مابہ النزاع ہے تو اس کے لیے اسی تحریک کے رہنماؤں کی بدنیتی اور بے دینی کو ذمے دار قرار دینا چاہئے اور یہ حقیقت تسلیم کی جانی چاہئے کہ زندگی کے واقعی مسائل کے تصفیے کے لیے حقیقی بنیاد کی ضرورت ہوتی ہے زندگی کے مسائل خوبصورت نعروں اور گلے کی قوت سے طے نہیں کیے جاسکتے اور نہ مفروضوں پر ان کے تصفیے کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔

No comments:

close